کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ پوسٹ بجٹ سیمینار میں صدر محمد ایوب خان مریانی اور نائب صدر انجینئر میر وائس خان کاکڑ نے معزز شرکاء کو خوش آمدید کہا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صدر محمد ایوب خان مریانی نے پاکستان اور بلوچستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران کو پوسٹ بجٹ سیمینار کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔
سیمینار میں کمشنر ان لینڈ ریونیو رحمت اللہ درانی، ممبر اپیلیٹ ٹربیونل عبداللہ خان، صدر بلوچستان ٹیکس بار امجد علی صدیقی اور سینئر نائب صدر پاکستان ٹیکس بار محمد آصف نے مالیاتی بل 2026-27 کے اہم نکات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ شرکاء کو، ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، کسٹمز و ریگولیٹری ڈیوٹیز میں مجوزہ تبدیلیوں، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ریلیف اور کاروباری شعبے پر مرتب ہونے والے ممکنہ اثرات سے آگاہ کیا گیا۔ل
صدر محمد ایوب خان مریانی نے اس موقع پر زور دیا کہ محصولات میں اضافے کے ساتھ ساتھ تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری کے فروغ کو بھی یقینی بنایا جائے، جبکہ بلوچستان کے تاجروں اور پسماندہ علاقوں کے لیے خصوصی سہولیات اور مراعات برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سیمینار میں کاروباری برادری، ٹیکس ماہرین اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطوں اور مشاورت کے فروغ پر بھی اتفاق کیا گیا۔
Read more..
__________________________________________________________
وفاقی بجٹ 2026-27 پر کاروباری برادری کے تحفظات اور تجاویز ، کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بجٹ کے مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ معاشی استحکام، تجارت کے فروغ اور کاروباری طبقے کو ریلیف دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
Read more..
__________________________________________________________
کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں صدر حاجی محمد ایوب مریانی، نائب صدر انجینئر میر وائس خان کاکڑ، سینئر اراکینِ چیمبر، ٹرانسپورٹرز اور تاجر برادری کے نمائندوں نے کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ، جناب شاہد جان، کی چیمبر آمد پر ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔
ملاقات کے دوران شرکاء نے کاروباری برادری اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو درپیش مختلف مسائل تفصیل سے اجاگر کیے، جن میں معمولی مقدار میں درآمدی اشیاء کی کسٹمز کی جانب سے ضبطگی، تفتان سے کوئٹہ تک متعدد چیک پوسٹوں پر بار بار جانچ پڑتال، قانونی تجارت اور اسمگل شدہ اشیاء میں واضح تفریق کا فقدان، گاڑیوں کی غیر ضروری روک تھام، کسٹمز چیک پوسٹوں پر نجی عملے کے رویے سے متعلق شکایات اور دیگر انتظامی مسائل شامل تھے۔
صدر چیمبر اور شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ قانونی تجارت کے فروغ، کاروباری سرگرمیوں میں آسانی اور ٹرانسپورٹ کے بلا تعطل بہاؤ کے لیے ان مسائل کا فوری اور مؤثر حل ناگزیر ہے۔
کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ جناب شاہد جان نے شرکاء کے تحفظات کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ تمام جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسٹمز انفورسمنٹ قانونی تجارت کے فروغ اور تاجروں و ٹرانسپورٹرز کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا دفتر تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری برادری کے لیے ہمیشہ کھلا ہے، اور کسی بھی حقیقی اور جائز مسئلے کی صورت میں بلا جھجھک ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے تاکہ بروقت اور مؤثر انداز میں مسائل کے حل کو یقینی بنایا جا سکے۔
آخر میں جناب صدر صاحب نے معزز مہمان کو چیمبر کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کی
Read more..
__________________________________________________________
اسلام آباد،
جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر حضرت مولانا فضل الرحمن سے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جناب محمد ایوب خان مریانی کی ملاقات ملاقات میں تجارتی حوالے بالخصوص بلوچستان میں امن و امان کی ابتر صورتحال، دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیوں، درآمدات و برآمدات، اور تجارتی گاڑیوں کی نقل و حرکت کو درپیش شدید مشکلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے خصوصاً قومی شاہراہوں کی بندش، تجارتی قافلوں کی رکاوٹ اور سرحدی گزرگاہوں پر سیکیورٹی مسائل کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر کاروباری برادری کی تشویش کا اظہار کیا۔
اس موقع پر سنیٹر کامران مرتضی بھی موجود تھے
__________________________________________________________
کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر
حاجی محمد ایوب مریانی کی زیر صدارت، سینئر نائب صدر حاجی اختر محمد کاکڑ اور نائب صدر انجینئر میروائس خان کاکڑ کی موجودگی میں بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال، مال بردار گاڑیوں کو نذرِ آتش کیے جانے کے واقعات، تجارتی شاہراہوں کی بندش اور قانونی تجارت کو درپیش مشکلات کے حوالے سے ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ٹرانسپورٹرز، بزنس کمیونٹی، مائنز اونرز ایسوسی ایشن، انجمن تاجران، زمیندار تنظیموں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کے جانی و مالی نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے، تجارتی شاہراہوں کو محفوظ بنایا جائے اور کاروباری سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔
اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جو آئندہ کے لائحہ عمل اور حکومتی حکام سے رابطوں کے حوالے سے سفارشات مرتب کرے گی